بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قبرستان میں کھیلنا

سوال

قبرستان میں کھیلنا کیسا ہے؟

جواب

قبرستان  میں کھیلنا ناجائز  ہے۔

 حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

"نَهَيْتُکُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُوْرِ؛ فَزُوْرُوْهَا؛ فَإِنَّهَا تُذَکِّرُکُمُ الْمَوْتَ."

ترجمہ:’’میں نے تمہیں زیارتِ قبور سے منع کیا تھا، اب تم اُن کی زیارت کیا کرو؛ کیوں کہ وہ تمہیں موت کی یاد دلاتی ہے۔‘‘

(مستدرك الحاكم، 1 : 531، رقم : 1388)

مشكاة المصابيح (1 / 539):

"عن عمرو بن حزم قال: رآني النبي صلى الله عليه وسلم متكئًا على قبر فقال: لاتؤذ صاحب هذا القبر، أو لا تؤذه. رواه أحمد."

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206201162
تاریخ04-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں