بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جسم ميں جنات كے حلول کرجانے سے وضو كا حكم

سوال

کسی شخص کے جسم میں جنات کے حلول کرجانے سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں؟

جواب

اگر کسی شخص کے جسم میں جنات حلول کرجانے کی وجہ سے وہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے (یعنی اس پر بے ہوشی طاری ہوجائے یا مجنون والی کیفیت طاری ہوجائے) تو اس صورت میں اس کا وضو ٹوٹ جائے گا، لیکن اگر کسی شخص کے جسم میں جنات کے حلول کرجانے کے باوجود اس کے ہوش و حواس قائم رہیں تو ایسی صورت میں اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 143):

"(و) ينقضه (إغماء) ومنه الغشي  (وجنون وسكر) بأن يدخل في مشيه تمايل ولو بأكل الحشيشة".

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206201157
تاریخ04-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں