بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرنطینہ سینٹر کے لیے جمع شدہ چندہ مدرسہ یا مسجد میں لگانا

سوال

قرنطینہ سینٹر کے مریضوں کے  لیے جو تعاونی  پیسے موصول ہوئے ہیں، ابھی سینٹر  کی ضرورت نہیں رہی تو  ان  پیسوں کو  مسجد  یا مدرسہ  کے فنڈ  میں  لگانا جائز  ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں مذکورہ قرنطینہ سینٹر کے  لیے جن افراد نے تعاون کیا تھا، ان کی اجازت کے بغیر مذکورہ رقم کسی مسجد ، مدرسہ یا کسی اور فلاحی یا رفاہی کام میں صرف کرنے کی اجازت نہیں، تعاون کرنے والے افراد سے اجازت لے کر پھر مذکورہ رقم مسجد یا مدرسہ کے فنڈ میں دینا جائز ہوگا۔

غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر میں ہے:

" شرط الواقف يجب اتباعه لقولهم: شرط الواقف كنص الشارع أي في وجوب العمل به".

( كتاب الوقف، ٢ / ٢٨٨، ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206201117
تاریخ03-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں