بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ارکان اسلام سے مراد

سوال

ارکان اسلام سے کیا مراد ہے؟

جواب

ارکانِ اسلام سے مراد دینِ اسلام کے وہ بنیادی احکام ہیں جو دینِ اسلام کی عمارت کے لیے بمنزلہ ستون کے ہیں، احادیث کی رُو سے دینِ اسلام کے پانچ ارکان ہیں:

۱) اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور حضرت محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں ۔

۲)  نماز قائم کرنا ۔

۳) زکات ادا کرنا۔

۴) ( صاحبِ استطاعت شخص کا )  بیت اللہ کا حج کرنا  ۔

۵)  رمضان  المبارک کے روزہ رکھنا۔

صحيح البخاري (1/ 11):

"حدثنا عبيد الله بن موسى، قال: أخبرنا حنظلة بن أبي سفيان، عن عكرمة بن خالد، عن ابن عمر، رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "بني الإسلام على خمس: شهادة أن لا إله إلا الله وأنّ محمَّدًا رسول الله، وإقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، والحج، وصوم رمضان".

ترجمہ: عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: (1) اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، (2) نماز قائم کرنا، (3) زکات ادا کرنا،  (4)حج کرنا اور (5) رمضان کے روزے رکھنا۔

صحيح مسلم (1/ 37):

" ... فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الإسلام أن تشهد أن لا إله إلا الله وأنّ محمَّدًا رسول الله صلى الله عليه وسلم، وتقيم الصلاة، وتؤتي الزكاة، وتصوم رمضان، وتحج البيت إن استطعت إليه سبيلًا»".

ترجمہ:  رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، اور نماز قائم کرو، اور زکات ادا کرو، اور رمضان کے روزے رکھو، اور بیت اللہ کا حج کرو اگر اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہو۔

  فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206201116
تاریخ03-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں