بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جاز کیش سے رقوم کی منتقلی پر زائد رقم وصول کرنا

سوال

میری  جاز کیش  اکاؤنٹ  کی دکان ہے اور  اگر کوئی کسٹمر میرے  پاس آ تا ہے تو  میں  اسے  یہ بات بتا کر  کہ بھائی کمپنی ہمیں اس طرح رقم بھیجنے اور نکلوانے پر زیادہ بچت نہیں دیتی ہے، لہذا ہم رقم  ایک ہزار روپے سینڈ کر نے پر آپ  سے دس روپے چارج کریں  گے،  اگر آپ کو منظور ہے تو ہم آ پ کی رقم سینڈ کر دیتے ہیں،  کیا اس طرح کسٹمر کو بتا کر پیسے لینا جائز ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں رقوم کی منتقلی پر کمپنی کی جانب سے جب  کوئی فیس وصول نہیں کی جاتی اور کمپنی اپنے نمائندہ کو مقررہ شرح کے مطابق نفع بھی دیتی ہے اور ان کو کسٹمر سے زائد رقم  وصول نہ  کرنے کا پابند بھی کرتی ہے تو اس صورت میں کمپنی کے نمائندوں کے لیے کسٹمر سے زائد رقم وصول کرنا شرعاً ناجائز ہوگا۔ 

اور یہی حکم ایزی لوڈ کرنے پر زائد رقم وصول کرنے کا بھی ہے، مزید تفصیل کے لیے دیکھیے:

ایزی لوڈ کرنے پر کمپنی ریٹ سے زائد وصول کرنے کا حکم

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206201098
تاریخ03-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں