بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کن مواقع پر جھوٹ جائز ہے؟

سوال

حضور  صلی اللہ علیہ وسلم نےکن موقع پر جھوٹ کو جائز قرار  دیا ہے؟

جواب

صریح جھوٹ بولنا  کبیرہ گناہوں میں سے  ہے اور   از روئے قرآن و حدیث حرام ہے، جس کی کسی موقع پر اجازت نہیں، البتہ جھگڑا  ختم کرانے  (دو فریقوں میں صلح کرانے )، ظلم سے بچنے  بچانے یا اپنے  ثابت شدہ حق کے حصول  کی غرض سے ذو معنی گفتگو کی جاسکتی ہے، ایسی مواقع  پر بھی صریح جھوٹ  کی اجازت نہیں۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 427):

"الكذب مباح لإحياء حقّه ودفع الظلم عن نفسه والمراد التعريض؛ لأن عين الكذب حرام، قال: وهو الحق قال تعالى: {قتل الخراصون} [الذاريات: 10]."

مزید تفصیل کے  لیے دیکھیے:

کیا جھگڑا مٹانے کے لیے جھوٹ بول سکتے ہیں

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206201093
تاریخ03-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں