بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میزان بینک کے اصول اسلامی نہیں

سوال

میزان بینک کے اصول اسلامی ہیں یا نہیں؟

جواب

میزان بینک سمیت تمام مروجہ اسلامی بینکوں میں سے کوئی بھی بینک مکمل اسلامی اصولوں پر مشتمل نہیں ہے، بلکہ اسلامی بینکاری نظام کا دعوی کرنے والے تمام مروجہ اسلامی بینکوں کا نظام بہت سے ایسے غیر اسلامی اصولوں پر مشتمل ہے جو اسلام میں ممنوع قرار دیے گئے ہیں، اس  لیے میزان بینک سمیت کسی بھی مروجہ اسلامی بینک کے ساتھ کسی بھی طرح کا تمویلی معاملہ (سیونگ اکاؤنٹ، قسطوں پر گاڑی یا گھر خریدنا وغیرہ) کرنا جائز نہیں ہے،  البتہ مجبوری کی حالت میں جس طرح سودی بینکوں میں کرنٹ اکاؤنٹ کھلوانے کی گنجائش ہے، اسی طرح مروجہ اسلامی بینکوں میں بھی صرف کرنٹ اکاؤنٹ کھلوانے کی گنجائش ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206201075
تاریخ02-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں