بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

والدین کو نفلی صدقہ کی نیت سے رقم دینا

سوال

میں جاب کرتا ہوں اور میں اپنی   تنخوا ہ  ہر مہینے والدین کو دیتا ہوں ۔اب میں چاہتا ہوں کہ میں اس تنخواہ  کو نفلي صدقہ کی نیت سے والدین کو دوں،تو کیا یہ  میرے لیے درست ہے ؟

جواب

انسان کا اپنے اہل وعیال یعنی بیوی بچوں  ، والدین پر خرچ بھی شریعت کی حدود کی پاس داری کے ساتھ ہو تو صدقہ کہلاتاہے، لہذامذکورہ صورت میں اگر  آپ اپنی تنخواہ کی رقم والدین کو دیتے ہیں اور نفلی صدقہ کی نیت کرتے ہیں تو یہ درست ہے ۔

"وأما صدقة التطوع فیجوز صرفها إلی الغنی لأنها تجري مجری الهبة".

(بدائع الصنائع، ۲/48، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206201061
تاریخ02-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں