پیشاب کے بعد منی نکلنے کی صورت میں غسل کا حکم
سوال
پیشاب یا پاخانہ کے وقت منی نکل جائے تو کیا حکم ہے ؟غسل واجب ہے یا نہیں؟
جواب
غسل فرض ہونے کے لیے منی (سفید گاڑھے مادہ) کا اپنی جگہ سے شہوت کے ساتھ جدا ہو کر جسم سے باہر نکلنا ضروری ہے، اس طرح اگر منی نکلتی ہے تو غسل فرض ہو جاتا ہے،اگر پیشاب سے پہلے یا بعد میں منی نکلنے کے وقت شہوت نہ ہو، نہ برے خیالات ہوں، نہ عضو میں ایستادگی ہو، بلکہ جریان کی وجہ سے منی نکلے تو غسل واجب نہیں ہے، البتہ بدن یا کپڑے میں جس جگہ پر لگی ہو اس کو دھوکر پاک کرنا ضروری ہوگا۔ واضح رہے کہ پیشاب سے پہلے یا بعد میں نکلنے والے گاڑھے قطرے عموماً منی نہیں ہوتے، بلکہ اسے ’’ودی‘‘ کہا جاتاہے، جس سے غسل فرض نہیں ہوتا۔
البحر الرائق میں ہے:
’’فرض الغسل عند خروج المني موصوف بالدفق و الشهوة عند الانفصال عن محله‘‘.
(كتاب الطهارة، [ المعاني الموجبة للغسل] ١/ ٥٥، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

