بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

"میں طلاق، میں طلاق، میں طلاق" کہنے کا حکم

سوال

میں نے اپنی بیوی کو بمورخہ 28 جنوری2021 کو غصے اور جذبات میں آکر ایک سانس میں تین بار "میں طلاق" کہا،  جب کہ میری نیت طلاق کی نہیں تھی،  اکیلے میں۔ میرے دو بچے ہیں  اور ایک بچہ 15جنوری کو پیدا ہوا۔ میں اپنے کیے پر شرمندہ ہوں اور دوبارہ تجدید نکاح کرنا چاھتا ہوں!

جواب

آپ نے سوال میں  جو الفاظ ذکر کیے ہیں  یعنی   "میں طلاق"  اگر آپ نے اپنی بیوی کو  صرف یہی الفاظ کہے تھے، اور  جملہ مکمل نہیں کیا تھا تو ان الفاظ سے تو کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، لیکن  اگر آپ نے کوئی اور الفاظ کہے تھے یا اس جملہ کو مکمل کیا تھا تو اپنے ادا کیے ہوئے الفاظ وضاحت کے ساتھ لکھ کر سوال دوبارہ بھیج دیں۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وركنه لفظ مخصوص.

(قوله: وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالةً على معنى الطلاق من صريح أو كناية، فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكمًا؛ ليدخل الكتابة المستبينة، وإشارة الأخرس، والإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله: أنت طالق هكذا، كما سيأتي".

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206201019
تاریخ01-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں