بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عیادت کے وقت مریض یا اس کے رشتہ داروں کو پھل فروٹ اور رقم ہدیہ دینا

سوال

عیادت  کے  وقت  مریض  یا  اس کے رشتہ داروں کو  پھل فروٹ اور  رقم وغیرہ  ہدیہ  دینے  کے سلسلے میں شرعی راہ نمائی فرمائیں!

جواب

بیمار  کی عیادت کرنا اور بالخصوص مسلمان مریض کی عیادت کرنا مستحب ہے، اور اس کے بہت سے فضائل احادیث میں وارد  ہوئے ہیں،  اور عیادت کے وقت چوں کہ مریض کو راحت پہنچانا اور اس کو  تسلی دینا مقصود ہوتا ہے، اس لیے اس کی خوشی اور راحت کی خاطر اور اس کے اہلِ  خانہ کے تعاون کے لیے کوئی پھل فروٹ خالص  ہدیہ کی نیت سے  لے کر جائیں یا  اگر وہ ضرورت مند ہو اور ان کو استطاعت کے بقدر رقم ہدیہ کردیں تو یہ نہ صرف جائز، بلکہ   ثواب کا ذریعہ ہے۔

البتہ یہ عمل فرض یا واجب نہیں ہے، اس لیے اس کو لازم اور ضروری سمجھ لینا درست نہیں ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ اگر ہدیہ دینے کے لیے کبھی کچھ نہ ہو تو  اس کی وجہ سے عیادت جیسی  اہم  فضیلت  سے محرومی ہوجائے، اور نہ ہی اس ہدیہ  کو قرض سمجھ کر دیا جائے۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206201009
تاریخ01-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں