بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کتے کی خرید و فروخت اور اس کی تعلیم کی اجرت کا حکم

سوال

1. کتوں کی خرید و فروخت ناجائز ہے؟

2. کتوں کو گھر کی رکھوالی اور تابع داری کی ٹریننگ دینے کی فیس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

فقہاءِ  کرام نے شکار وغیرہ کے لیے کتے کی تجارت سے متعلق یہ صراحت فرمائی ہے کہ اس  کتے کی خرید و فروخت جائز ہے   جو مُعَلَّم  (سدھایا ہوا) ہو یا اس میں تعلیم قبول کرنے (سدھائے جانے) کی صلاحیت ہو،  یعنی شکاری ہو  یا حفاظت کے لیے ہو یا اسے شکار اور حفاظت کی تربیت دی جائے تو وہ سیکھ سکے؛ لہٰذا شکار یا حفاظت کی غرض سے کتے  کی   خرید و فروخت جائز ہے، اس کے علاوہ مطلقاً کتے کی بیع کی اجازت نہیں۔

نیز کتے کو  حفاظتی مقاصد کے لیے  چوں کہ پالنا جائز ہے اور اِس کے لیے اُس کی تعلیم کی ضرورت ہے، لہذا کتے  کی تعلیم کی اجرت بھی جائز ہو گی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 69):

"بيع الكلب المعلم عندنا جائز، وكذا السنور."

الفتاوى الهندية (3/ 114):

 

’’و بيع الكلب غير المعلم يجوز إذا كان قابلاً للتعليم وإلا فلا، وهو الصحيح، كذا في جواهر الأخلاطي‘‘.

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206200980
تاریخ01-02-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں