بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چھ مہینے کا بکرا عقیقے میں ذبح کرنے کا حکم

سوال

چھ ماہ کے بکرے کو عقیقہ کے لیے  ذبح کر سکتے ہیں؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں عقیقہ کا جانور اگر بکرا ہو تو  قربانی کے جانور کی طرح اس کی عمر بھی کم از کم 1 سال ہونا لازم ہے؛  لہذا چھ ماہ کے بکرے کو عقیقے میں ذبح کرنے سے عقیقہ نہیں ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

’’يستحب لمن ولد له ولد أن يسميه يوم أسبوعه ويحلق رأسه ويتصدق عند الأئمة الثلاثة بزنة شعره فضةً أو ذهباً، ثم يعق عند الحلق عقيقة إباحة على ما في الجامع المحبوبي، أو تطوعاً على ما في شرح الطحاوي، وهي شاة تصلح للأضحية تذبح للذكر والأنثى سواء فرق لحمها نيئاً أو طبخه بحموضة أو بدونها مع كسر عظمها أو لا، واتخاذ دعوة أو لا‘‘.

(6/ 336، کتاب الاضحیۃ، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206200966
تاریخ31-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں