خواب شرعی اَحکام کے لیے دلیل نہیں ہے
سوال
ایک بزرگ آج سے پچیس سال پہلے فوت ہو گئے تھے۔ ان کے بیٹوں نے قبر کشائی کر کے دوسری جگہ دفن کیا ہے۔ دلیل یہ دی ہے کہ صاحب قبر خواب میں آئے ہیں، کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟
جواب
واضح رہے کہ ایک مرتبہ تدفین کے قبر کشائی کرنا جائز نہیں، جب تک کہ اس قبر سے کسی غیر کا حق متعلق نہ ہو، مثلاً کسی کی ذاتی زمین میں اس کی اجازت کے بغیر تدفین کردی اور دفن ہونے کے بعد بھی اجازت نہ دے۔ صورتِ مسئولہ میں صرف خواب کی بنیاد پر قبر کشائی کرنا ناجائز ہے۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 383):
"أن رؤيا غير الأنبياء لاينبني عليها حكم شرعي."
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

