بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کا چندہ افطاری، انتظامیہ کے کھانے پینے اور اجرت میں صرف کرنے کا حکم

سوال

مسجد کے  پیسوں/  چندہ سے افطاری تیار کرنا، انتظامیه کو اجرت دینا، انتظامیه کا کھانا اور چائے پینا، مقتدیوں اور  طلبہ  کا کھانا اور چائے پینا جائز ہے؟

جواب

مسجد  کا  چندہ  صرف ان مصارف میں صرف کرنا جائز ہے جن مصارف کے نام سے مسجد کا چندہ جمع کیا جاتا ہے ، لہٰذا اگر لوگوں سے مسجد کے  لیے چندہ جمع وقت یہ صراحت نہ کی جاتی ہو کہ اس چندے سے افطاری تیار کی جائے گی ،انتظامیہ کو اجرت دی جائے گی، انتظامیہ، مقتدیوں اور طلبہ کے کھانے، چائے وغیرہ کا انتظام کیا جائے گا تو مسجد کے چندے سے مذکورہ کام کرنا جائز نہیں ہوگا، کیوں کہ مذکورہ  مصارف  مسجد کے امام صاحب، مؤذن اور خادم کی تنخواہ کی طرح مسجد کی ضروریات میں داخل نہیں ہیں۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"( ويبدأ من غلته بعمارته ) ثم ما هو أقرب لعمارته كإمام مسجد ومدرس مدرسة يعطون بقدر كفايتهم، ثم السراج والبساط كذلك إلى آخر المصالح، وتمامه في البحر".

(4/367 دارالفکر بیروت)

(کفایت المفتی 7/67،ط:دارالاشاعت) 

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206200918
تاریخ30-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں