بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اسی ہزار پر زکاۃ کا حکم

سوال

میں نے شٹرنگ کا کام شروع کرنا تھا،  دوست احباب سے قرض لے کر لکڑی  کی شٹرنگ خریدی، پھر وہ قرض سارا ادا نہیں کر سکا،  تھوڑا قرض میرے ذمہ اب بھی واجب الادا ہے۔ پھر ایک دوست سے چھ  لاکھ روپے قرض لے کر ایک گاڑی فروخت کرنے کی غرض سے خریدی۔ اس گاڑی کو فروخت کر کے اسی ہزار منافع لیا،  اب اس اسی ہزار پر فصل کی طرح عشر ادا کروں ؟ یا کیا کروں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں آپ اگر پہلے کبھی  صاحبِ نصاب نہیں بنے   اور آپ کے پاس    رقم زکات  کے نصاب  (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت)  سے زیادہ  ہے، لیکن آپ کے ذمے  قرضہ  بھی ہے  اور  اس رقم پر سال بھی نہیں گزرا تو آپ پر اس رقم میں زکات لازم نہیں ہوگی،  جب تک کہ اس رقم پر سال نہ گزر جائے اور اس رقم سے قرضہ منہا کر کے یہ زکات  کے نصاب کو نہ پہنچے۔   فقط  واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206200906
تاریخ30-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں