بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میزان بینک کی اسکیم میں کس کے فتوی پر عمل کریں؟

سوال

آپ نے فتوی دیا کہ میزان بینک کی اسکیم میرا پاکستان میراگھر سے گھر بنوانا جائز نہیں ہے۔ دوسری طرف مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد تقی عثمانی صاحب  کی زیرنگرانی یہ بینک کام کررہا ہے ۔ ہم عام افراد اس کو کس نظر سے دیکھیں ؟

جواب

مروجہ غیر سودی بینکاری  کے  حوالے  سے علماء کا اختلاف راجح مرجوح کا اختلاف نہیں، بلکہ یہ اختلاف، حلال اور حرام کا اختلاف ہے،  بہت سے مقتدر محقق مفتیانِ کرام اسے حرام قرار دیتے ہیں، ایسے مسئلہ میں بہرحال حرام کو مقدم رکھا جاتا ہے۔ جب کہ  مذکورہ مسئلہ میں عدمِ جواز  کی رائے کا  دلائل کے اعتبار سے قوی ہونا  اور حنفیہ کے اصولوں کے مطابق ہونا نیز حرمت اور جواز کے اختلاف کے موقع پر احتیاط کے پیشِ نظر حرمت کے پہلو پر عمل کرنا ہی راجح ہے۔

بالفرض حلال کہنے والوں کے موقف کو تسلیم کیا جائے تو مروجہ غیر سودی نظام زیادہ سے زیادہ مباح عمل ہے، دوسری طرف حرام میں وقوع کا امکان ہے، مباح کو اختیار کرنے کی بجائے حرام سے بچنا فرض ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144206200881
تاریخ30-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں