بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا عالم کے لیے سال لگانا ضروری ہے؟

سوال

کیا  عالم کے لیے  سال لگانا ضروری ہے  جیساکہ مشہور ہے؟  نیز  کیا  "حیاۃ الصحابہ"  کی تعلیم سال لگائے بغیر کرنا ناجائز ہے؟ جب کہ اس سے نفعِ عام جاری و ساری ہو! 

جواب

اس دور میں  بے علمی اور  بے عملی  عام ہے، عوام تک دین پہنچانے اور ان کے دین کو پختہ کرنے کے  لیے موجودہ تبلیغی کام بے حد مفید ہے  اور اس کا مشاہدہ ہے؛ لیکن جو شخص دوسرے طریقہ سے دین حاصل کرے اور اسے دوسروں تک پہنچائے، اسےحقارت و  تنگ نظری سے نہ دیکھا جائے، لہذا  اگر کسی عالمِ دین نے تبلیغی جماعت کی مروجہ ترتیب کے مطابق فراغت کے بعد سال نہیں لگایا تو  اس میں کوئی حرج نہیں ہے، نیز اسے حیات الصحابہ کی تعلیم کرانے سے روکنا حد سے زیادہ غلو کی علامت ہے، جوکہ نتیجے کے اعتبار سے بے حد نقصان دہ ہے۔ فقط واللہ  اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206200862
تاریخ30-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں