آغاخانی یا اسماعیلی کی دعوت قبول کرنا
سوال
اگر آغاخانی یااسماعیلی شخص آپ کو کھانے کی دعوت دے توکیا اس کی دعوت قبول کر نا چاہیے، کھانا کھانا چاہیے یا نہیں؟
جواب
قرابت دار، محلہ دار، شریک کار یا پڑوسی ہونے کے ناطے کوئی بھی انسا ن اکرام کرے تو اس کے اکرام کو قبول کرنا شرعاً جائز ہے، البتہ غیر مسلموں یا باطل فرقوں کی مذہبی تقریبات اور مجالس میں شرکت جائز نہیں ہے، اسی طرح اہلِ کتاب کے علاوہ کسی غیر مسلم کا مذبوحہ جانور ہو یا کھانے میں ناپاک چیز ہو تو اسے کھانا بھی جائز نہیں ہے، اہلِ کتاب نے اگر صرف اللہ تعالیٰ کا نام لے کر شرعی طریقے سے جانور ذبح کیا ہو تو وہ حلال ہے، لہذا آغاخانیوں اور اسماعیلیوں کا کھاناحلال ہو تو ان کی دعوت میں شرکت کی گنجائش ہے۔لیکن ان سے دوستانہ تعلقات رکھناجائز نہیں ہے۔ اور اگر اُن کے ساتھ میل جول رکھنے میں اپنے عقائد خراب ہونے کا اندیشہ یا کوئی اور دینی مفسدہ ہو تو ایسی صورت میں اُن کی دعوتوں میں شرکت کرنے سے احتراز کرنا ضروری ہو گا۔ فقط واللہ ا علم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

