بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز کے دوران سورۃ الناس کی تلاوت کرتے ہوئے آیت ”الٰہ الناس“ بھول جائے تو کیا حکم ہے؟

سوال

اگر  جہری نما ز   میں قراء ت میں سورۃ الناس کی ایک آیت مثلا "الٰہ الناس"  چھوٹ جانے سے جماعت ہوجائے گی؟

جواب

واضح رہے کہ اگر  جہری نماز  میں قرأت کے دوران ایک آیت چھوٹ جائے، لیکن اس آیت کے چھوٹنے سے معنیٰ میں کوئی تبدیلی لازم نہ آئے  یا  معنی میں تبدیلی ہورہی ہو لیکن اگلی اور پچھلی آیات سانس توڑ کر الگ الگ تلاوت کی گئی ہوں تو ایسی صورت میں وہ نماز صحیح ہے، اس نماز کو دوبارہ پڑھنا یا سجدہ سہو کرنا لازم نہیں ہے۔

لہذا صورتِ  مسئولہ میں  نماز کے دوران  سورۃ الناس کی تلاوت کرتے ہوئے  آیت ”الٰه الناس“ درمیان میں بھول سے رہ جائے تو نماز ادا ہوجائے گی۔

الفتاوى الهندية (1 / 80):

(وَمِنْهَا ذِكْرُ آيَةٍ مَكَانَ آيَةٍ) لَوْ ذَكَرَ آيَةً مَكَانَ آيَةٍ إنْ وَقَفَ وَقْفًا تَامًّا ثُمَّ ابْتَدَأَ بِآيَةٍ أُخْرَى أَوْ بِبَعْضِ آيَةٍ لَا تَفْسُدُ كَمَا لَوْ قَرَأَ {وَالْعَصْرِ - إِنَّ الإِنْسَانَ} [العصر: 1 - 2] ثُمَّ قَالَ: {إِنَّ الأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ} [الانفطار: 13] ، أَوْ قَرَأَ {وَالتِّينِ} [التين: 1] إلَى قَوْلِهِ {وَهَذَا الْبَلَدِ الأَمِينِ} [التين: 3] وَوَقَفَ ثُمَّ قَرَأَ {لَقَدْ خَلَقْنَا الإِنْسَانَ فِي كَبَدٍ} [البلد: 4] أَوْ قَرَأَ {إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ} [البينة: 7] وَوَقَفَ ثُمَّ قَالَ {أُولَئِكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ} [البينة: 6] لَا تَفْسُدُ. أَمَّا إذَا لَمْ يَقِفْ وَوَصَلَ - إنْ لَمْ يُغَيِّرْ الْمَعْنَى - نَحْوُ أَنْ يَقْرَأَ {إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ} [الكهف: 107] فَلَهُمْ جَزَاءً الْحُسْنَى مَكَانَ قَوْلِهِ {كَانَتْ لَهُمْ جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلا} [الكهف: 107] لَا تَفْسُدُ. أَمَّا إذَا غَيَّرَ الْمَعْنَى بِأَنْ قَرَأَ " إنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَئِكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ إنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ " إلَى قَوْلِهِ " خَالِدِينَ فِيهَا أُولَئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ " تَفْسُدُ عِنْدَ عَامَّةِ عُلَمَائِنَا وَهُوَ الصَّحِيحُ. هَكَذَا فِي الْخُلَاصَةِ."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206200844
تاریخ29-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں