بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سجدہ سہو کرنا بھول گیا تو کیا حکم ہے؟

سوال

نماز میں التحیات میں یاد آیا کہ ایک رکعت رہ گئی ہے، میں نے کھڑے ہوکر ادا کرلی اور پھر سے التحیات کی۔ کیا یہ طریقہ کار صحیح تھا، یا  نماز دوبارہ پڑھنی پڑے گی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں التحیات میں جب آپ کو یاد آیا کہ ایک رکعت رہ گئی ہے اور آپ نے کھڑے ہوکر رکعت پڑھ لی تو درست کیا، لیکن مذکورہ صورت میں آپ پر  نماز کے آخر میں سجدۂ سہو لازم تھا، لہٰذا اگر آپ نے چھوٹی ہوئی رکعت پڑھنے کے بعد آخر میں سجدۂ سہو  کیا ہو تو  پھر  آپ کی نماز  درست  ہوگئی، اور  اگر سجدہ سہو نہ کیا ہو تو اسی نماز کے وقت میں دہرانا واجب  تھا، وقت گزرنے کے بعد اعادہ واجب نہیں ہے۔

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 440):

"كل صلاة أديت مع كراهة التحريم تعاد أي وجوباً في الوقت، وأما بعده فندب ".

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206200816
تاریخ29-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں