بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دکان میں ناخن کاٹنا منحوس نہیں ہے

سوال

مشہور ہے کہ دکان میں ناخن کاٹنا باعثِ نحوست ہوتا ہے ، اس حوالہ سے رہنمائی فرمائیں!

جواب

دکان میں ناخن کاٹنے کے متعلق یہ کہنا کہ یہ منحوس ہے، اس بات کی شریعت میں کوئی اصل نہیں۔نیز واضح ہو کہ اسلام میں نیک فالی لینے کی تعلیم ہے اور کسی چیز کو بذاتِ خود منحوس سمجھنا یا اس سے بدفالی لینا، اس کی ممانعت ہے۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (7 / 2901):

"أن الحكيم الترمذي، والبغوي، رويا عن بريدة: «أنه صلى الله عليه وسلم كان لايتطير، ولكن يتفاءل» . وتقدم أنه كان «يتفاءل ولا يتطير، وكان يحب الاسم الحسن»."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206200775
تاریخ28-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں