بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نکاح میں شرط لگانا کہ لڑکی والے دلہن کو گھر پہنچائیں

سوال

رشتہ طے کرتے وقت اگر یہ شرط لگائی جائے کہ نکاح کے بعد لڑکی والےخود دلہن کو دلہا کے گھر پہنچائیں تو کیا یہ شرط لگانا لڑکے والے کےلیے درست ہوگا ؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں رشتہ طے کرتے وقت مذکورہ شرط باہمی رضامندی سے لگا لی ہو تو اس میں شرعی اعتبار سے کوئی قباحت نہیں ہے، حسبِ شرط رخصتی کرنی چاہیے؛ تاکہ وعدہ خلافی نہ ہو۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5 / 259):

"وروي عن النبي عليه الصلاة والسلام أنه قال: «المسلمون عند شروطهم» فظاهره يقتضي لزوم الوفاء بكل شرط إلا ما خص بدليل؛ لأنه يقتضي أن يكون كل مسلم عند شرطه."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206200766
تاریخ28-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں