نکاح میں شرط لگانا کہ لڑکی والے دلہن کو گھر پہنچائیں
سوال
رشتہ طے کرتے وقت اگر یہ شرط لگائی جائے کہ نکاح کے بعد لڑکی والےخود دلہن کو دلہا کے گھر پہنچائیں تو کیا یہ شرط لگانا لڑکے والے کےلیے درست ہوگا ؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں رشتہ طے کرتے وقت مذکورہ شرط باہمی رضامندی سے لگا لی ہو تو اس میں شرعی اعتبار سے کوئی قباحت نہیں ہے، حسبِ شرط رخصتی کرنی چاہیے؛ تاکہ وعدہ خلافی نہ ہو۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5 / 259):
"وروي عن النبي عليه الصلاة والسلام أنه قال: «المسلمون عند شروطهم» فظاهره يقتضي لزوم الوفاء بكل شرط إلا ما خص بدليل؛ لأنه يقتضي أن يكون كل مسلم عند شرطه."
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

