بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد ميں دوسری جماعت کا حکم

سوال

جس مسجد کا  امام مقرر ہو  اس میں دوبارہ جماعت سے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

 جس  مسجد  میں  امام، مؤذن  اور نمازی معلوم ہیں، نیز  جماعت کے اوقات بھی متعین ہوں  تو ایسی مسجد میں ایک مرتبہ اذان اور اقامت کے ساتھ  محلے والوں کے  جماعت کے ساتھ نماز ادا کرلینے کے بعد دوبارہ نماز کے لیے جماعت کرانا مکروہِ  تحریمی ہے۔

 البتہ  نماز کے لیے مختص وہ مقامات جہاں پنج  وقتہ نماز ادا نہ کی جاتی ہو، یا  باہر راستوں پر بنی مساجد جہاں امام ومؤذن مقرر نہ ہوں، یا  امام و مؤذن تو مقرر ہوں، لیکن وہاں کے نمازی متعین نہ ہوں، بلکہ راہ چلتے مسافر رک کر باری باری جماعت کراتے ہوں، وہاں  دوسری جماعت کرانا مکروہ نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 552):

"ويكره تكرار الجماعة بأذان وإقامة في مسجد محلة لا في مسجد طريق أو مسجد لا إمام له ولا مؤذن.

(قوله: بأذان وإقامة إلخ) عبارته في الخزائن: أجمع مما هنا، و نصها: يكره تكرار الجماعة في مسجد محلة  بأذان وإقامة، إلا إذا صلى بهما فيه أولا غير أهله، لو أهله لكن بمخافتة الأذان، ولو كرر أهله بدونهما أو كان مسجد طريق جاز إجماعًا؛ كما في مسجد ليس له إمام ولا مؤذن ويصلي الناس فيه فوجًا فوجًا، فإن الأفضل أن يصلي كل فريق بأذان وإقامة على حدة كما في أمالي قاضي خان اهـ ".

(کتاب الصلاۃ، باب الإمامة، مطلب في تكرار الجماعة في المسجد،ط:سعيد)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206200741
تاریخ27-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں