بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

6 بیٹوں اور 6 بیٹیوں میں ترکہ کی رقم تقسیم

سوال

مرحوم کے بچے ہیں، جن میں  6  لڑکے اور 6 لڑکیاں  ہیں،  اور گھر کی قیمت 2 کروڑ   12 لاکھ ہے تو بیٹے اور بیٹیوں  کے حصے میں کتنے پیسے آئیں گے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر والد ین کا انتقال ہوگیا ہے اور یہ ترکہ کا مکان ہے اور اب ورثاء میں صرف یہی چھ بیٹے اور چھ بیٹیاں ہیں تو ان میں  ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ  مرحوم کے  کل منقول وغیر منقولہ ترکہ کو کل 18 حصوں میں تقسیم کرکے دو، دو حصے  مرحوم کے ہر ایک  بیٹے کو ، اور ایک ، ایک حصہ  ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔

یعنی مثلًا  21200000  (دو کروڑ، بارہ لاکھ) روپے میں مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو   2355555.55  (تئیس لاکھ، پچپن ہزار، پانچ سو پچپن ) روپے (پچپن پیسے) ، اور  ہر ایک بیٹی کو 1177777.77 (گیارہ لاکھ، ستتر ہزار، سات سو ستتر) روپے  (ستتر پیسے) ملیں گے۔ فقط واللہ اعلم

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206200714
تاریخ27-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں