بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میت کو دفنانے کے بعد تابوت کا حکم

سوال

بعض حضرات مردے کو دفنانے کے بعد تابوت کو مسجد میں رکھتےہیں، کیا یہ جائز ہے؟ کیا اس تابوت  کو جلا سکتے ہیں؟  بہتر طریقہ کیا ہے؟

جواب

اگر کسی میت کو تابوت میں قبرستان لے جایا گیا ہو اور میت کو تابوت سے نکال کر دفن کر دیا گیا ہو تو اس تابوت کا حکم یہ ہو گا کہ اگر وہ  تابوت کسی آدمی نے اپنی ذاتی رقم سے خریدا ہو  تو اُسی شخص کو اختیار ہو گا، خواہ کسی مسجد  یا ویلفیئر ادارے میں وقف کر کے دے دے، یا اُس کو فروخت کر کے رقم اپنے پاس رکھ لے۔

اور اگر یہ تابوت میت کے ترکہ کی رقم سے خریدا گیا ہو تو اس تابوت میں میت کے ورثاء کا حق ہو گا، کسی ایک وارث کو تابوت کے  لینے یا وقف کرنے کا اختیار نہ ہو گا، بلکہ اس کو فروخت کر کے اس کی رقم ترکہ میں شامل کی جائے ، اور اگر تمام ورثاء بالغ ہوں اور اس تابوت کو کسی مسجد یا ویلفیئر ادارے کو وقف کرنا چاہیں تو ایسا کرنا بھی درست ہو گا، بہرحال!   ورثاء باہمی مشاورت سے اس کے متعلق جو فیصلہ کریں  گے وہ قابلِ عمل ہو گا۔

تاہم تابوت کو جلانا کوئی شرعی حکم نہیں ہے اور نہ اس کو جلانے کی ضرورت ہے، بلکہ درج بالا صورتوں میں سے کسی ایک صورت کو اختیار کر لیا جائے۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206200691
تاریخ27-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں