بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امام کے پیچھے قرات کرنا مکروہ ہے

سوال

اگر کسی مقتدی نے ظہر کی تیسری رکعت میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھ لی تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب

امام کے  پیچھے قراءت  کرنا مکروہ ہے، البتہ صورتِ مسئولہ میں نماز درست  ہو چکی ہے، اس کو دہرانے  کی ضرورت نہیں ہے۔

تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:

’’(والمؤتم لا يقرأ مطلقاً) ولا الفاتحة...( فإن قرأ كره تحريماً) و تصح في الأصح...الخ (باب صفة الصلاة، مطلب السنة تكون سنة عين و سنة كفاية‘‘.(١/ ٥٤٤، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206200638
تاریخ26-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں