بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تدفین کے بعد قبر پر اذان دینا

سوال

تدفین کے بعد قبر پر اذان دینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

تدفین کے بعد دعا کرنا  تو ثابت اور جائز ہے، لیکن تدفین کے بعد قبر پر اذان دینا  شریعت میں ثابت نہیں،  بلکہ   بدعت ہے، اس سے اجتناب ضروری ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 385):

"قيل: وعند إنزال الميت القبر قياسًا على أول خروجه للدنيا، لكن رده ابن حجر في شرح العباب."

 امداد الفتاوی جدید  436-11:

’’علماء نے اس کو رد کیا ہے:کما في ردالمحتار أول باب الأذان، قیل: وعند إنزال المیت القبر قیاساً علی أول خروجه للدنیا، لکن رده ابن حجر في شرح العباب".
بالخصوص جب کہ عوام اس کااہتمام والتزام بھی کرنے لگیں،کما هو عادتهم في أمثال هذه   کہ التزام مالا یلزم سے مباح بلکہ مندوب بھی منہی عنہ ہو جا تا ہے۔ کما صرّح به الفقهاء وفرعوا علیه أحکاماً‘‘.

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206200610
تاریخ25-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں