بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غائبانہ نماز جنازہ کی شرعی حیثیت

سوال

غائبانہ نماز جنازہ پڑھنے  کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب

غائبانہ نمازِ جنازہ جائزنہیں ہے، نمازجنازہ صحیح ہونے کے لیے جنازہ کاسامنے ہوناشرط ہے۔ حبشہ کے بادشاہ نجاشی کاغائبانہ نماز جنازہ جوآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھاتھا، فقہاءِ کرام  اس کونجاشی کی خصوصیت قراردیتے ہیں،نیز روایات سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ نجاشی کاجنازہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کردیاگیاتھا۔ ورنہ غائبانہ نمازجنازہ کاعام معمول نہیں تھا،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانہ میں کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مدینہ سے باہرشہیدہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کواطلاع بھی دی گئی، لیکن ان کی غائبانہ نمازجنازہ نہیں پڑھی گئی۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"فلاتصح علی غائب وصلاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم علی النجاشی لغویة أو خصوصیة."

(باب صلاۃ الجنازۃ،2/209،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم  

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206200605
تاریخ25-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں