بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں بدنظری کرنے سے روزے کا حکم

سوال

روزہ کی حالت میں نامحرم مرد کو دیکھنے کا کیا حکم ہے، کیا روزہ مکروہ ہوجاتا ہے؟

جواب

بصورتِ مسئولہ روزے کی حالت میں نامحرم کو دیکھنے سے مراد اگر قصداً نظر بھر کر دیکھنا ہے، تو روزے کی حالت میں بدنظری کرنے سے روزہ مکروہ ہوجاتا ہے، البتہ روزہ برقرار رہےگا، اور اگر نامحرم کو دیکھنے سے مراد بدنظری نہیں ہے تو محض دیکھنے سے روزہ فاسد نہیں ہوگا۔

ملحوظ رہے بدنظری فی نفسہ گناہِ کبیرہ (یعنی ایک بڑا گناہ) اور موجبِ لعنت عمل ہے، جس سے ہر حال میں اجتناب ضروری ہے، جیسے کہ حدیث شریف میں ہے:

"آپﷺ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو اس شخص پر جو قصداً دیکھنے والا ہو، اور وہ بھی ملعون ہے جسے دیکھاجائے۔"

(مشکوۃ المصابیح، کتاب النکاح، باب النظر الی المخطوبۃ، رقم الحدیث:3125، ج:2، ص:931، ط:المکتب الاسلامی)

البتہ اگر غیر اختیاری طور پر کسی نامحرم پر نظر پڑجائے اور فوراً نظر پھیرلے تو اس پر بدنظری کا گناہ نہیں ہے۔

حجة الله البالغة میں ہے:

"اعْلَم أَن كَمَال الصَّوْم إِنَّمَا هُوَ تنزيهه عَن الْأَفْعَال والأقوال الشهوية والسبعية والشيطانية، فَإِنَّهَا تذكر النَّفس فِي الْأَخْلَاق الخسيسة، وتهيجها لهيآت فَاسِدَة، والاحتراز عَمَّا يُفْضِي إِلَى الْفطر، ويدعوا إِلَيْهِ، فَمن الأول قَوْله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَلَايرْفث وَلَايصخب، فَإِن سابّه أحد أَو قَاتله فَلْيقل: إِنِّي صَائِم."

(أحكام الصوم، أُمُور تتَعَلَّق بِالصَّوْمِ، ج:2، ص:84، ط:دارالحيل.بيروت)

فقط والله اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206200405
تاریخ22-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں