بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مشرک کا ذبیحہ

سوال

مشرک آدمی کےذبیحہ کا کیا حکم ہے ؟

جواب

1۔"مشرک" کا ذبیحہ حلال نہیں ہے۔ البتہ جس شخص کا شرک یقینی طور پر ثابت ہو اسی کو مشرک کہا جائے گا۔ جس کے بارے میں تاویل کا احتمال ہو اسے گم راہ اور مبتدع کہا جاسکتاہے، مشرک نہیں۔

وفي الدر المختار وحاشية ابن عابدين :

(وشرط كون الذابح مسلما حلالا خارج الحرم إن كان صيدا)فصيد الحرم لا تحله الذكاة في الحرم مطلقا (أو كتابيا ذميا أو حربيا) إلا إذا سمع منه عند الذبح ذكر المسيح (فتحل ذبيحتهما...(لا) تحل (ذبيحة) غير كتابي من (وثني ومجوسي ومرتد)(رد المحتار6/ 296ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206200391
تاریخ21-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں