بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حلال جانور میں سات حرام اشیاء

سوال

بکرے کے جن سات اعضاءکا  کھانا  منع ہے وہ کون سے ہیں؟

جواب

بکرے اور دیگر حلال جانورکی سات چیزیں حرام ہیں جن کا کھاناجائزنہیں ہے:

1۔  دمِ  مسفوح یعنی بہنےوالاخون۔

2۔ پیشاب کی جگہ (نرومادہ کی)۔

3۔ خصیے(فوطے)۔

4۔ پاخانے کی جگہ۔

5۔ غدود(سخت گوشت)۔

6۔ مثانہ(پیشاب کی تھیلی)۔

7۔ پِتَّا۔

صاحبِ کنز اور علامہ طحطاوی  رحمہما اللہ نے "حرام مغز" کو بھی حرام اجزاء میں شمار کیا ہے، لیکن راجح قول کے مطابق "حرام مغز "  کا کھانا حرام نہیں ہے۔ حرام مغز سے مراد دودھ کی طرح ایک سفید ڈوری ہے جو جانور کی پیٹھ کی ہڈی کے اندر کمر سے لے کر گردن تک ہوتی ہے۔

وفي الدر المختار وحاشية ابن عابدين:

ما يحرم أكله من أجزاء الحيوان المأكول سبعة: الدم المسفوح والذكر والأنثيان والقبل والغدة والمثانة والمرارة بدائع . (رد المحتار6/ 311ط:سعيد)

(طحطاوی علی الدر( 4/360) :

"و زِيْدَ نخاعُ الصلب".

کفایت المفتی میں ہے:

’’کپورے کھانا مکروہ ہے، گردے جائز ہیں، حرام مغز نہ حرام ہے نہ مکروہ، یوں ہی بے چارہ بدنام ہوگیا‘‘۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206200390
تاریخ21-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں