بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طالب علم کا اپنے وطن اصلی سے واپس آنے پر مدرسے میں اتمام /قصر کا حکم

سوال

آپ حضرات نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا ہے کہ اگر طالب علم پندرہ دن سے کم ایک مدرسے میں گزارے تو وہ قصر کریں البتہ اگر ایک مرتبہ پندرہ دن سے زیادہ کی نیت سے ٹہرے تو جب تک اس سامان یہاں موجود ہے تو یہ مقیم رہے گا ، آنے جانے سے یہ مسافر نہیں بن جاتا، تو سوال یہ ہے اگر طالب علم پندرہ دن کے بعد اگر وطن اصلی جائے اور واپس مدرسے میں جانا چاہے تو وہ قصر کریں گے یا پھر اتمام؟

جواب

مذکورہ طالب علم مدرسے میں لو ٹنے کے بعد مقیم ہوگا اور پوری نماز پڑھے گا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(أو دخل بلدةً ولم ينوها) أي مدة الإقامة (بل ترقب السفر) غدًا أو بعده (ولو بقي) على ذلك (سنين) إلا أن يعلم تأخر القافلة نصف شهر، كما مر.

(قوله: أو دخل بلدة) أي لقضاء حاجة أو انتظار رفقة.
"(قوله: ولم ينوها) وكذا إذا نواها وهو مترقب للسفر كما في البحر لأن حالته تنافي عزيمته".

(كتاب الصلوة، باب صلوة المسافر، ج:2، ص:126، ط:ایچ ایم سعید)

فقط والله اعلم

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206200389
تاریخ21-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں