بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عقد نکاح میں دولہے کے حفظ قرآن کو بطور مہر مقرر کرنے کا حکم

سوال

کیا حقِ  مہر میں قرآن رکھوانا  کہ لڑکا اس کو حفظ کرے، ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب

بصورتِِ  مسئولہ عقدِ  نکاح میں شوہر کے حفظِ قرآن کو مہر بنانا درست نہیں ہے، اگر حفظِ قرآن کو بطورِ مہر مقرر  کرکے نکاح کیا گیا تو نکاح منعقد ہوجائے گا، اور  شوہر کے ذمے  مہرِ مثل ادا کرنا لازم ہوگا۔ یعنی لڑکی کے خاندان میں اس طرح کی لڑکی کا جو مہر متعارف ہے، وہ ادا کرنا ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: وفي تعليم القرآن) أي يجب مهر المثل فيما لو تزوجها على أن يعلمها القرآن أو نحوه من الطاعات لأن المسمى ليس بمال."

(كتاب النكاح، باب المهر، ج:3، ص:201، ط:ايج ايم سعيد)

فقط والله اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206200386
تاریخ21-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں