بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ناپاکی کی حالت میں اذان دینا

سوال

1۔ کیا ناپاکی کی حالت میں اذان دے سکتے ہیں ؟

2۔ اگر اذان کے دوران لائٹ چلی جاۓ تو کیا کریں ؟

جواب

1۔ ناپاکی کی حالت میں اذان دینا مکروہِ تحریمی ہے، اگر اگر ناپاکی کی حالت میں اذان دے دی گئی تو اذان تو ادا  ہوجائے گی لیکن اُس اذان کا اعادہ مستحب ہے۔ 

چنانچہ فتاوٰی شامی میں ہے :

"ویکرہ أذان جنب وإقامته."

قال ابن عابدین :

"(قوله: ویکرہ أذان جنب) لأنه یصیر داعیا إلی ما لایجیب إلیه، وإقامته أولی بالکراهة. وصرح فی الخانیة بأنه تجب الطهارة فیه عن أغلظ الحدثین. وظاهر أن الکراهة تحریمیة بحر."

 قال الحصکفي :

(ویعاد أذان جنب) ندبا، وقیل وجوبا."

قال ابن عابدین :

”وعلل الوجوب فی الکل بأنه غیر معتد به والندب بأنه معتد به إلا أنه ناقص، قال وهو الأصح کما في التمرتاشي."

( الدر المختار مع رد المحتار :  2/ 404،405) باب الأذان ، ط: دار الثقافة والتراث، دمشق)

2۔ اذان کے دوران اگر لائٹ چلی جائے تو کوئی حرج نہیں اذان جاری رکھیں۔ فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206200233
تاریخ19-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں