بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ظہر سے پہلی کی چار سنتیں اگر رہ جائیں

سوال

ظہر کی پہلی چار سنتیں اگر رہ جائیں تو فرض کے بعد ادا کرسکتے ہیں ؟

جواب

اگر جماعت کی وجہ سے ظہر سے پہلے چار سنتیں رہ جائیں تو ظہر کی فرض نماز کے بعد  یہ سنتیں ادا کرنی چاہییں،اور بہتر یہ ہے کہ پہلے بعد والی دو سنت ادا کی جائیں اور   اس کے بعد پہلے والی چار سنتیں ادا کی جائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح ثابت ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2 / 59):

"قال في الإمداد: وفي فتاوى العتابي أنه المختار، وفي مبسوط شيخ الإسلام أنه الأصح لحديث عائشة: «أنه عليه الصلاة والسلام كان إذا فاتته الأربع قبل الظهر يصليهن بعد الركعتين»، وهو قول أبي حنيفة، وكذا في جامع قاضي خان اهـ والحديث قال الترمذي: حسن غريب، فتح".

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206200224
تاریخ18-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں