بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تزکّی نام رکھنا

سوال

’’ تَزَكّٰى‘‘ نام رکھنا  کیسا  ہے؟

جواب

واضح  رہے کہ  ’’ تَزَكّٰى‘‘  عربی زبان  میں  "باب تفعّل"  سے فعل ماضی کا لفظ ہے۔اس کے معنی یہ ہیں :

1-  بڑھنا،نشو نما پانا ۔ 2- نیک  و صالح ہونا۔ 3- پاک و صاف ہونا۔ 4- صدقہ کرنا۔  (القاموس الوحید)

فعل کے  وزن  پر ہونے کے باوجود اس لفظ کے ساتھ نام رکھنا درست ہے؛ کیوں کہ عربوں میں وہ الفاظ جو افعال کے وزن پر ہیں ان کو نام کے طور پر استعمال کرنا منقول ہے ،احادیث اور آثار میں صحابہ کے بھی اس طرح کے کچھ نام منقول ہیں مثلا یعیش وغیرہ ۔  البتہ صحابہ صحابیات میں سے کسی کا نام’’ تَزَكّٰى‘‘  منقول نہیں ہے؛  لہذا لڑکے کا نام رکھنا ہو تو ’’ تَزَكّٰى‘‘  کے علاوہ، انبیاءِ کرام علیہم السلام یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ناموں میں سے کوئی نام  اور لڑکی کا نام رکھنا ہو تو صحابیات رضی اللہ عنہن کے ناموں میں سے کوئی نام رکھنا افضل ،برکت کا باعث اور بہتر ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206200210
تاریخ18-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں