بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

"یا رب موسی ، یا رب کلیم، بسم اللہ الرحمن الرحيم" کا وظیفہ کرنا

سوال

"یا رب موسی ، یا رب كلیم،  بسم اللّٰه الرحمٰن الرحيم"  اس وظیفہ کے بارے میں پوچھنا تھا۔

جواب

مذکورہ  وظیفہ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ عوام الناس اس کو جس تلفظ سے پڑھتے ہیں وہ غلط ہے، درست تلفظ یوں ہوگا: "یَا رَبَّ مُوْسٰی ، یَا رَبَّ كَلِیْم،  بِسْمِ اللِّٰه الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ".

 ملحوظ رہے  وظائف اور  دعاؤں کی حقیقی اور یقینی قبولیت کا تعلق اللہ تعالی کی ذات سے ہے، البتہ بعض مواقع پر آپ  ﷺ   سے مسنون اوراد  اور  وظائف بھی منقول ہیں، جن کے پڑھنے میں ثواب بھی ہے اور عموماً فائدہ بھی زیادہ ہوتا ہے، اس لیے  بہتر ہے کہ ان مواقع پر مسنون اذکار  پڑھنے کا اہتمام کیا جائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206200206
تاریخ18-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں