بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ذہنی مریض والد کی جائیداد زندگی میں ہی تقسیم کر لینا

سوال

والد صاحب  کی ذہنی حالت خراب ہو جانے کی صورت میں جائیداد کے مالکانہ حقوق کس کے پاس ہوں گے؟ اگر بیٹے بیٹیاں بھی بالغ ہوں تو کیا جائیداد بیٹے اور بیٹیوں میں تقسیم کر دی جائےگی؟ یا والد کی زندگی تک ان کے پاس ہی رہے گی ؟جب کہ اس جائیداد کو غلط ہاتھوں میں جانے کا بھی خطرہ ہو۔

جواب

واضح رہے کہ والد صاحب جب تک حیات ہیں، وہ اپنی جائیداد کے خود مالک ہیں، اولاد کو ان کی جائیداد آپس میں تقسیم کرنے کا اختیار نہیں ہے،چاہے وہ ذہنی طور پر معذور ہو چکے ہوں، اس  لیے کہ اولاد کا حق میراث میں ہوتا ہے  اور  میراث کا تعلق موت کے بعد سے  ہے ،  اگر والد صاحب کے مال کو خطرہ ہو تو اولاد پر لازم ہے کہ اپنے مال سے بڑھ کر اس کی حفاظت کریں، البتہ اس مال  میں مالکانہ تصرف نہیں کرسکتے، نیز اسے آپس میں تقسیم  بھی نہیں کر سکتے  ہیں۔

لما في رد المحتار كتاب الوصايا، باب الوصية للأقارب و غيرهم:

"(قوله: إنما يكون بعد الموت) لأن كونهم ورثة لا يتحقق إلا بعد موت المورث".

(6/ 687) سعيد)

لما في المبسوط للسرخسي، باب اليمين في العتق:

"لِأَنَّ مَوْتَ الْمُورَثِ سَبَبٌ لِانْتِقَالِ الْمَالِ إلَى الْوَارِثِ ..."

(9/ 32) دار المعرفة، بيروت)

لما في البحر الرائق، كتاب الفرائض:

"وَأَمَّا بَيَانُ الْوَقْتِ الَّذِي يَجْرِي فِيهِ الْإِرْثُ فَنَقُولُ هَذَا فَصْلٌ اخْتَلَفَ الْمَشَايِخُ فِيهِ قَالَ مَشَايِخُ الْعِرَاقِ الْإِرْثُ يَثْبُتُ فِي آخِرِ جُزْءٍ مِنْ أَجْزَاءِ حَيَاةِ الْمُوَرِّثِ وَقَالَ مَشَايِخُ بَلْخٍ الْإِرْثُ يَثْبُتُ بَعْدَ مَوْتِ الْمُوَرِّثِ".

(8/ 557) دار الكتاب الإسلامي)

لما في رد المحتار، كتاب البيوع،مطلب في تعريف المال و الملك و المتقوم:

"لأن الملك ما من شأنه أن يتصرف فيه بوصف الاختصاص".

(4/ 502) ط:سعيد)

وفي درر الحكام شرح مجلة الأحكام :

"لأن للإنسان أن يتصرف في ملكه الخاص كما يشاء وليس لأحد أن يمنعه عن ذلك ما لم ينشأ عن تصرفه ضرر بين لغيره".

( انظر المادة 1192 )(1/ 473 ط:دار الکتب العلمية).

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206200196
تاریخ18-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں