بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسبوق اپنی بقیہ رکعتوں کی قراء ت میں امام کا تابع نہیں

سوال

کیا مسبوق کے  لیے ضروری ہے کہ اپنی بقیہ رکعات میں قرآنِ مجید ترتیب سے پڑھے ؟ مثلاً اگر مغرب کی دوسری رکعت میں امام صاحب نے سوری نصر پڑھی ہے تو مسبوق کے  لیے ضروری ہے کہ نصر سے پہلے والی کوئی سورت پڑھے  یا یہاں سے مرضی پڑھ لے؟

جواب

مسبوق اپنی  چھوٹ  جانے والی  رکعتوں کے پورا کرنے کے دوران امام کے تابع نہیں ہوتا؛ اس لیے اس پر چھوٹ جانے والی رکعتوں میں امام کی قرأت کی ترتیب کی رعایت رکھنا ضروری نہیں ہے، البتہ اگر مسبوق کی دو رکعتیں چھوٹی ہوں تو ان میں قرأت کرتے ہوئے ترتیب کی رعایت ضروری ہوگی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 596):

"(والمسبوق من سبقه الإمام بها أو ببعضها وهو منفرد) حتى يثني ويتعوذ ويقرأ، وإن قرأ مع الإمام لعدم الاعتداد بها لكراهتها مفتاح السعادة (فيما يقضيه) أي بعد متابعته لإمامه، فلو قبلها فالأظهر الفساد، ويقضي أول صلاته في حق قراءة."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206200174
تاریخ18-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں