بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فیس بک میسنجر کے ذریعے مسائل بتانا

سوال

کچھ علمائے کرام نے میسینجر میں لڑکیوں کے ساتھ گروپ کھولا؟ کیا یہ جائز ہے؟

جواب

خواتین کے  میسنجر، فیس بک پیغام، اس کو محفوظ کرنے اور اس ذریعے سے رابطہ کرنے میں کئی مفاسد کا اندیشہ ہے، اس لیے فیس بک  پیغامات کے ذریعے مسائل کے بیان سے یا واٹس ایپ پر خواتین کے اس طرح گروپ بنانے سےاحتراز کیا جائے، خواتین کو مسئلہ درپیش ہو تو وہ شوہر یا محرم کے ذریعے کسی عالم سے دریافت کروالیں، اگر کسی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو  تو اپنے پیش آمدہ مسئلہ کا کسی معتبردارالافتاء   سے رابطہ کرکے حل دریافت کرلیا جائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206200125
تاریخ17-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں