فیس بک میسنجر کے ذریعے مسائل بتانا
سوال
کچھ علمائے کرام نے میسینجر میں لڑکیوں کے ساتھ گروپ کھولا؟ کیا یہ جائز ہے؟
جواب
خواتین کے میسنجر، فیس بک پیغام، اس کو محفوظ کرنے اور اس ذریعے سے رابطہ کرنے میں کئی مفاسد کا اندیشہ ہے، اس لیے فیس بک پیغامات کے ذریعے مسائل کے بیان سے یا واٹس ایپ پر خواتین کے اس طرح گروپ بنانے سےاحتراز کیا جائے، خواتین کو مسئلہ درپیش ہو تو وہ شوہر یا محرم کے ذریعے کسی عالم سے دریافت کروالیں، اگر کسی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو تو اپنے پیش آمدہ مسئلہ کا کسی معتبردارالافتاء سے رابطہ کرکے حل دریافت کرلیا جائے۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

