بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورتوں کا قبرستان جانا

سوال

 عورتیں قبرستان میں جاسکتی ہیں؟

جواب

بوڑھی عورتوں کے لیے نوحہ خوانی، چیخ وپکار اور فتنہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو پردہ کا اہتمام کرکے اپنے محرم کے ساتھ قبرستان جانے کی گنجائش ہے، البتہ بہتر یہی ہے کہ وہ قبرستان نہ جائیں۔  جوان عورتوں کا  بہرصورت قبرستان  جانا مکروہِ تحریمی ہے۔

البحر الرائق میں ہے:

"(قوله: وقيل: تحرم على النساء إلخ) قال الرملي: أما النساء إذا أردن زيارة القبور إن كان ذلك لتجديد الحزن والبكاء والندب على ما جرت به عادتهن فلا تجوز لهن الزيارة، وعليه حمل الحديث: «لعن الله زائرات القبور»، وإن كان للاعتبار والترحم والتبرك بزيارة قبور الصالحين فلا بأس إذا كن عجائز، ويكره إذا كن شواب، كحضور الجماعة في المساجد".

(کتاب الصلاۃ باب الجنائز ج نمبر ۲ ص نمبر ۲۱۰،دار الکتاب الاسلامی)

فقط واللہ اعلم

تفصیل کے لیے  مندرجہ ذیل لنک دیکھیں:

عورتوں کے قبرستان جانے کا حکم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144206200094
تاریخ16-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں