بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بھینس اور گھوڑا حلال ہے؟

سوال

گھوڑا  اور بھینس حلال ہے یا نہیں؟

جواب

 بھینس حلا ل ہے، اور     گھوڑا بھی   فی نفسہ  حلال جانور ہے ،  مگر آلۂ  جہاد ہونے کی وجہ سے  مکروہِ تحریمی  ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"يكره لحم الخيل في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - خلافًا لصاحبيه، واختلف المشايخ في تفسير الكراهة و الصحيح أنه أراد بها التحريم ولبنه كلحمه، كذا في فتاوى قاضي خان. وقال الشيخ الإمام السرخسي: ما قاله أبو حنيفة - رحمه الله تعالى - أحوط، وما قالا أوسع، كذا في السراجية."

(كتاب الذبائح ، الباب الثاني في بيان ما يؤكل من الحيوان وما لا يؤكل، ج:  5، صفحہ: 290، ط: دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205201599
تاریخ14-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں