بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

معلمہ کا ماہواری کے ایام میں قرآن سننا

سوال

کیا کوئی معلمہ اَیّامِ حیض میں بچوں سے قرآنِ  پاک کا سبق سن سکتی ہے؟ کہا جاتا ہے کہ جس طرح حالتِ  عذر میں قرآنِ  پاک پڑھنا منع ہے، اسی طرح سننا بھی جائز نہیں  ہے؛ کیوں کہ سننا یہ پڑھنے والے کی تائید ہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں معلمہ  کے لیے  ماہوری کے اَیّام  میں قرآنِ  کریم سننا جائز ہے، ہاں اس حالت میں قرآنِ کریم کی تلاوت نہ دیکھ کر  جائز ہے ، اور  نہ ہی  زبانی پڑھنے یا سنانے کی اجازت ہے، اور  نہ ہی بغیر  کسی جدا کپڑے  کے  چھونے کی اجازت ہے۔ 

صحیح بخاری میں ہے:

’’عن منصور بن صفیة أنّ أمّه حدّثته أنّ عائشة حدّثتها أنّ النبي صلى الله علیه و سلّم كان یتكئ في حجري و أنا حائض، ثمّ یقرأ القرآن.‘‘

(صحیح البخاري، کتاب الحیض، باب قراءۃ الرجل في حجر امرأته و هي حائض، 1/44، ط: قدیمی کراچی)

ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ میری گود میں  ٹیک لگاکر لیٹتے تھے جب کہ میں حیض کی حالت میں ہوتی تھی، پھر آپ ﷺ قرآنِ کریم کی تلاوت فرماتے تھے۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205201595
تاریخ14-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں