بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا عشق مجازی حرام ہے؟

سوال

عشق مجازی شرعی رو سے حرام ہے یا پھر کچھ اور؟  اگر حرام ہے حرام کے کس حکم میں آتا ہے؟

جواب

عشقِ مجازی  ایک بیماری ہے، جس کا سبب عام طور پر بد نظری بنتی ہے، لہذا شریعتِ مطہرہ نے بد نظری کو ہی حرام قرار دے دیا، لیکن جب انسان بد نظری سے نہیں بچتا تو بد نظری کے نتیجے میں وہ اس بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے اور یہی بیماری (عشقِ مجازی) دیگر گناہوں کا سبب بنتی چلی جاتی ہے، اس وجہ سے بد نظری، عشقِ مجازی اور اس کے نتیجہ میں انسان جن گناہوں میں مبتلا ہوتا ہے وہ سب کے سب حرام قرار دیے گئے ہیں اور ان سب سے بچنا انسان کے ایمان کے لیے نہایت ضروری ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205201568
تاریخ14-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں