بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سفانہ نام کے معنی اور نام رکھنے کا حکم

سوال

کیا ”سفانہ“  نام رکھنا درست ہے  اور کیا”سفانہ“  نام کی کوئی صحابیہ بھی تھیں  جو حضرت عدی  بن حاتم کی لڑکی ہیں، کیا یہ بات صحیح ہے؟

جواب

سَفَّانہ  کے معنی : موتی   کے ہیں۔(مصباح اللغات: مادة: سفن - ص:۳۸۲،ادارة العلم، نوشہرہ، باکستان) 

 یہ صحابیات کے ناموں میں سے ہے، حضرت  سفانہ   رضی تعالیٰ عنہا    صحابیہ تھیں، یہ   حضرت عدی بن حاتم الطائی رضی اللہ عنہ  کی بہن تھیں، اور  حاتم طائی کی بیٹی تھیں۔ یہ نام رکھنا جائز  بلکہ صحابیات  رضی اللہ عنہن کے ناموں میں سے ہونے کی وجہ سے باعثِ برکت ہے۔

الإصابة فی تمییز الصحابة  میں ہے:

"سفانة بنت حاتم الطائي: تقدم نسبها في ترجمة أخيها عدي بن حاتم ... ورواه عبد العزيز بن أبي رواد بنحوه وزاد. وكانت أسلمت وحسن إسلامها."

(الإصابة في تمييز الصحاية: كتاب النساء ، حرف السين (4/ 322)،ط. دار الكتاب العربي)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205201563
تاریخ14-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں