ساس کی بہن کے ساتھ نکاح کرنا
سوال
کیا ساس کی بہن کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے؟
جواب
ساس کی بہن یعنی بیوی کی خالہ سے نکاح کرنا جائز ہے؛ اس لیے کہ ساس کی بہن سے محرمیت کا کوئی رشتہ نہیں ہوتا، البتہ ایک وقت میں بیوی اور اُس کی خالہ کو نکاح میں جمع کرنا جائز نہیں ہے، ہاں! اگر بیوی کو طلاق دے دی ہو تو اُس کی عدت گزرنے کے بعد یا اُس کی وفات ہو گئی ہو تو اس کے بعد ساس کی بہن سے نکاح کیا جا سکتا ہے۔
النهر الفائق شرح كنز الدقائق (2/ 190):
"(و) حرم أيضاً الجمع (بين امرأتين) بنكاح أو ملك يمين وطئاً أية أي: (أية) امرأة منهما (فرضت ذكراً حرم النكاح) بينهما كالمرأة وعمتها إذ لو فرضت المرأة ذكراً حرم عليه نكاح عمته أو العمة كذلك حرم عليه نكاح بنت أخيه فحرم الجمع لما روى أبو داوود في (مراسيله) عن عيسى بن طلحة: (نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن تنكح المرأة على قرابتها مخافة القطيعة)."
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

