بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جی پی فنڈ پر انٹرسٹ کا حکم

سوال

بندہ ایک سرکاری ادارے میں ملازم ہے،  میری تنخواہ  سے جی پی فنڈ کاٹا جاتا ہے، البتہ اس فنڈ پر انٹرسٹ  لینا اپنے اختیار میں ہوتا ہے،  اگر لکھ کر منع کر دیا جاۓ کہ مجھے  انٹرسٹ نہیں  لینا تو اس صورت میں صرف اصل رقم ملتی ہے اور اگر اُن سے بولا جاۓ کہ  مجھے انٹرسٹ  چاہیے تو  اس صورت میں اضافی رقم ملتی ہے، یہ اضافی رقم اپنی مرضی سے لینا جائز ہے ؟

جواب

جی پی فنڈ کی کٹوتی پر ملنے والی اضافی رقم   کے جائز   یا ناجائز ہونے کا دارو مدار     اس فنڈ  کی  جبری اور اختیاری کٹوتی پر ہے، اگر  جی پی فنڈ  کی مد میں ہونے والی   کٹوتی  ملازم کے اختیار میں نہ ہو، ادارہ  جبرا ًیہ کٹوتی  کرتا ہو  تو اس فنڈ پر  ملنے والی اضافی رقم لینا جائز  ہوگا، اور یہ سود نہیں،  البتہ اگر کوئی احتیاطًا نہ لے  تو یہ بہتر ہے۔ اور  اگر  یہ کٹوتی ملازم کے اختیار ورضامندی سے ہو، تو اس پر  ملنے والا انٹرسٹ لینا جائز نہیں۔   فقط، واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205201538
تاریخ13-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں