بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پاکستانی کرنسی میں سونا ادھار پر خریدنے کا حکم

سوال

سونے کو پاکستانی روپیوں پر اُدھار خریدنے کا کیا حکم ہے؟ مکمل رہنمائی فرمائیں!

جواب

 واضح رہے کہ مروجہ کرنسی نوٹ  خلقی وحقیقی اَثمان (یعنی:سونا، چاندی) کے قائم مقام ہیں، ان کے وہی اَحکام ہیں جو حقیقی اَثمان (یعنی: سونا، چاندی) کے ہیں؛ لہذا سونے کو کرنسی نوٹوں کے مقابلہ میں بيچنا بیعِ صرف کہلائے گا  اور  بیعِ صرف کی رو سے مجلسِ بیع میں دونوں طرف سے قبضہ ضروری ہے، اُدھار جائز نہیں، لہذا صورتِ  مسئولہ میں سونے کو پاکستانی کرنسی کے مقابلہ میں ادھار خریدنا جائز نہیں۔ 

تفصیل کے  لیے : حضرت مولانامفتی عبد السلام چاٹگامی صاحب مدظله  العالي کی کتاب: جواہر الفتاوی: کرنسی نوٹ اور اس کی شرعی حیثیت(1/ 416 تا429)،ط۔اسلامی کتب خانہ کراچی۔

فقط، والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205201533
تاریخ13-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں