بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایصالِ ثواب کا طریقہ

سوال

میں نے جو کچھ بھی پڑھا ہے یہ میں اپنے کزن کی روح کو بخشنا چاہتا ہوں، اس کی نیت اور طریقہ کیا ہے؟

جواب

جو لوگ اس دنیا سے رخصت ہو جاتے  ہیں  ان کے لیے دعا بھی کی جا سکتی ہے  اور ان کو نیک اعمال ہدیہ بھی کیے جا سکتے ہیں، خواہ پڑھ کربخشا جائے یا خیرات اور حسنات بخشے جائیں۔

ایصالِ ثواب کا مختصر طریقہ یہ ہے کہ تلاوت (یا کوئی بھی نفلی عبادت) کرنے کے بعد صرف یہ نیت کرلیں کہ ’’یااللہ اس عمل کا ثواب فلاں  شخص تک پہنچا دیں‘‘ تو اس عمل کا ثواب عمل کرنے والے کو بھی اور جسے پہنچایا جائے اسے بھی مل جاتاہے۔

البحر الرائق میں ہے:

"فإن من صام أو صلى أو تصدق وجعل ثوابه لغيره من الأموات والأحياء جاز، ويصل ثوابها إليهم عند أهل السنة والجماعة، كذا في البدائع. وبهذا علم أنه لا فرق بين أن يكون المجعول له ميتًا أو حيًّا".

(البحر الرائق، 3/63)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144205201496
تاریخ13-01-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں